Saturday, 13 April 2013

دل کی دنیا بدل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عابد قیوم خاان


                                                                 دل کی دنیا بدل گئی۔۔۔۔ عابد قیوم خان

میں جیسے ہی کراچی آیا میرے دوست یاسر حیات نے یاد دہانی کروائی کہ آج شام سعید آباد بلدیہ ٹاؤن میں سیرت مصطفٰیؐ کانفرنس ہے آپ کو ضرور آناہے۔ میں نے وہاں پہنچنے کے لئے ذہن بنالیا کیوں کہ جب میں شہر سے باہر تھا تو جب بھی میرے دوست مجھ سے مسلسل رابطے میں تھے اور اپنے پروگرام میں شرکت کے لئے خصوصاً کراچی آنے کو کہہ رہے تھے، اب جبکہ میں کراچی پہنچ چکا تھا تو ان کے ہاں جانا لازمی تھا۔مقررہ وقت پر میں اس مقام پر پہنچ گیاجہاں اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے۔ سیرت مصطفٰیؐ کانفرنس کے حوالے سے یاسر حیات نے اپنے تئیں مجھ سے رہنمائی لینے کی کوشش کی، حالانکہ میں تو خود نا بلد و نا آشنا تھا پھر بھی موقع سے فائدہ اٹھا کرکچھ مشورے دینے ضروری سمجھے جو شاید بعد ازاں ان کے کام بھی آئے۔ کانفرنس کا آغاز ہو چکا تھاتلاوت کے بعد نعت کے لئے مختلف نام پکارے جاتے رہے مگر دور دور تک کوئی آتا دکھائی نہ دیا، جب چوتھا نام پکارا گیا اور میں نے مڑ کردیکھا کہ اب بھی کوئی نہیں ہے جو نبی اقدس ﷺ کے شان میں نعت پڑھے تودل کے کسی کونے میں چھپا عشق ِ رسولؐ جاگ اٹھا اور میں تیزی سے بڑھتا ہوا اسٹیج کی جانب چل دیا کہ میں ہی کوئی ٹوٹی پھوٹی نعت پڑھ لوں کہ اللہ کی رضا کا باعث بنے اور ساتھ ہی محفل کا مزہ بھی خراب نہ ہو لیکن میں اسٹیج کے قریب ہی تھا کہ ایک چھوٹی سی عمر کا لڑکا حافظ عبید پہنچ گیا اور اس نے دلکش انداز میں نعت پڑھنی شروع کردی اور یہ دیکھ کرمیں اگلی ہی نشست پر براجمان ہوگیا۔ سیرت ؐکے موضوع پربیان کے لئے انہوں نے کسی مولوی کو نہیں بلایا تھا بلکہ اسلامی اسکالر راشد نسیم کو مدعو کیا تھا جو سیرت مصطفٰیؐ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے تھے۔ کبھی انہوں نے سائنسی حوالوں سے اور کبھی طب و صحت کے اعتبار سے جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو اس احسن انداز سے بیان کیا کہ دل کھنچتا چلا گیا، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے طویل پروگرام میں ایک لمحے کے لئے بھی اکتاہٹ محسوس نہ ہوئی۔ راشد نسیم نے موجودہ حالات لوٹ مار، ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، بد امنی، مہنگائی، لوڈشیڈنگ اورتمام تر مسائل کا بہترین حل سیرت کے آئینہ میں پیش کردیا۔انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کہ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ الحسنہ کی تشریح میں آقاؐ کی زندگی کے ہر ہر پہلو کو عملی نمونہ کے طور پر بیان کیا انداز بیاں ا نتہائی احسن اور پھر سیرت بھی محمد مصطفٰی ﷺ کی، کون کافر ہے جو اثر لینے سے محروم رہتا؟ سو مجھ پر بھی اثر ہوا اورمیں دل ہی دل میں دل کی دنیا تبدیل کر بیٹھا۔ ابھی پروگرام ختم نہیں ہوا تھا کہ یاسر نے sms کیا کہ’’ بھائی آپ کو تو اسٹیج پر بلانا یاد ہی نہیں رہا‘‘ اس بات پر میں مسکرایا کہ کہاں میں اور کہاں یہ روح پرور محفل ، اور میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ محفل کے اختتام پر میں نے دیکھا کہ ہمارے پڑوسی حافظ آصف آئے اور انہوں نے اپنے والد ملک حکمران سے کوئی اہم بات کی اور وہ د ونوں تیزی سے دوڑتے ہوئے موٹر سائیکل کی طرف چل دےئے میں بھی پیچھے پیچھے ہولیا کہ دیکھوں کیا معاملہ ہے، وہاں ان کے کزن یار محمد بھی تھے جو بتا رہے تھے کہ ہم بازار سے واپس آرہے تھے کہ بلدیہ ٹاؤن مین روڈ پر تین نمبر تھانے کے قریب دوموٹر سائیکلوں پر سوار پانچ مسلح افراد نے ہمیں لوٹ لیا ہے، ایک لاکھ دس ہزار روپے اور موبائل فون کے علاوہ تمام تر کاغذات جن میں شناختی کارڈ بھی شامل تھا ہم سے گن پوائنٹ پر چھین لیا گیا ہے۔ہم افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے دو مختلف موٹر سائیکلوں پر تھانے پہنچ گئے۔ سپاہی نے بائیک باہر ہی کھڑی کرنے کو کہا تو اس پر میں نے کہا کہ آپ کے تھانے کے سامنے سے بائیک والوں کو لوٹ لیا ہے تو تھانے کے باہر سے یہ بائیک بھی جا سکتی ہیں اس پر وہ سپاہی موٹر سائیکل اندر لے جانے پر راضی ہوگیا۔ ایس ایچ او صاحب سے ملاقات کے لئے میں نے اپنا کارڈ بھجوایا اور آنے کی وجہ بیان کی، اندر سے جواب آیا کہ ’’ صاحب فون پر مصروف ہیں انتظار کیجئے‘‘ کچھ ہی دیر بعد بلاوا آگیا۔ تعارف اور رسمی علیک سلیک کے بعد مدعا بیان کیا تو SHO ظفر اقبال نے جواباً کہا کہ آپ کو یہاں آتے آتے کوئی دس پندرہ منٹ تو ہو ہی گئے ہوں گے اور اب ظاہر ہے ملزمان تو وہاں نہیں ہوں گے۔ میں نے کہا کہ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا آپ ایک گاڑی بھجوائیے ہو سکتا ہے کہ وہ پکڑے جائیں؟ جس پر’’ صاحب ‘‘نے کہا کہ جس جگہ واقعہ ہوا ہے وہ ’’ہماری حدود‘‘ میں نہیں آتا پھر بھی اگر آپ کہیں تورپورٹ درج کروا دیتے ہیں۔ SHO صاحب کی اس بات پر ہم نے خاموشی سے رپورٹ درج کروانا ہی مناسب سمجھا، یار محمد کو ہیڈ مہرر کے پاس بٹھا کر میں تھانے سے باہر نکل آیا اور ہر طرف چھایا ہوا سناٹا دیکھنے لگا کہ میرے دوست احسن اقبال کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ عابد بھائی آپ کی گلی میں جو سنار رہتا ہے وہ بازار سے سات تولہ سونا لے کر آرہا تھا کہ بلدیہ تین نمبر پر تھانے کے قریب پانچ مسلح افراد نے لوٹ لیا ہے میں نے پوچھا آج ؟ تو اس نے بتایا کہ دو دن پہلے کی بات ہے لیکن مجھے ابھی پتہ چلا ہے۔ اتنے میں آصف اور یار محمد ہاتھ میں ایف آئی آر لئے باہر نکل آئے ،اب اُس واقعے کو تقریباً ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔واپسی پر انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ محفوظ نہیں ہے ہمیں باہر کی طرف سے چلنا چاہئے، اس پر میں نے بھی اتفاق کیا اور ہم بیرونی راستے سے واپسی کا سفر طے کرنے لگے۔ مواچھ موڑ کے قریب میں نے بائیک روک لی کہ ہمارے ساتھ آنے والی دوسری بائیک پیچھے رہ گئی ہے کچھ ہی دیر میں وہ بائیک آگئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہی پانچ ڈکیت اُنہی دو موٹر سائیکلوں پر ہمارے برابر میں سے گزرے ہیں جن پر انہوں نے ہمیں لوٹا تھا اور نہ جانے اب تک کس کس کو لوٹ چکے ہوں گے۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ پولیس کو مطلع کیا جائے مگر ایس ایچ او ظفر اقبال صاحب کی وہ بات یاد آگئی کہ ’’ہماری حدود‘‘ میں نہیں آتا۔ ملک حکمران نے کہا کہ ان کا پیچھا کرتے ہیں، اس پر یار محمد نے مزاقاً کہا اس طرف سے پیچھا کرتے ہیں جس طرف سے ہمارا گھر آتا ہے اور ہم سب اس کی بات پر ہنس دئیے اور گھر کی راہ لی۔بستر پر لیٹا ہی تھا کہ ایک دوست شہریار منشی نے اطلاع دی کے ان کا موبائل اور پرس چھن گیا ہے۔ ایف آئی آر درج کروانی ہے، چونکہ رات زیادہ ہو چکی تھی اس لئے میں نے کل کا وعدہ کیاکہ ساتھ تھانے جائیں گے اور سونے لیٹ گیا۔ لیٹے لیٹے ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری اور پولیس کی ’’مجبوری‘‘ بد امنی، روزانہ کی اموات اور لوٹ مار کا خیال آتا رہا یہاں تک کہ خیال ہی خیال میں سیرت کانفرنسؐ میں پہنچ گیا اوروہ حدیث یاد آگئی کہ محمد ﷺ کے راستے پر چلنے کے نتیجے میں ’’ایک وقت آئے گا کہ صنا سے حضرموت تک ایک عورت تنہا سفر کریگی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔‘‘ میں اپنے اندر ایک عجیب قسم کی تبدیلی محسوس کر رہا تھا آج مسلمان ہونے اور آنحضرت ﷺ سے نسبت کا اندازہ ہورہا تھا ،تصور میں خود کو امت محمدیہؐ کاسپاہی سمجھتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ ہم سب مسلمان کب اپنے آقاؐ کے راستے کو اپناتے ہیں تاکہ ہم بھی وہ معاشرہ دیکھیں جو آپؐ نے اپنے ساتھیوں کو دکھایا تھا، ان خیالات کے درمیان جانے کس وقت نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔
عابد قیوم خان
toabid@yahoo.com

No comments:

Post a Comment