Sunday, 1 May 2011

پاک فوج کےزیرِ استعمال اسلحہ اور اس کی تفصیل

رائفل
پیادہ فوج کا اصل ہتھیار رائفل ہے۔تھری ناٹ تھری کی رائفل کی مار دو ہزار گز تک ہو سکتی ہے لیکن عموماََ اسے تین سو گز سے دو تک ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا وزن ساڑھے نو پاؤنڈ ہوتا ہے اور جب اسے لگاتار چلایا جائے تو یہ ایک منٹ میں 15 راؤنڈ فائر کر سکتی ہے۔ فائرنگ کی عام رفتار 5 راؤنڈ فی منٹ ہوتی ہے۔پاکستانی فوج کے پاس تھری ناٹ تھری کے علاوہ اب نیم خود کار رائفلیں بھی ہیں۔

پستول
پاک فوج میں عموماَََ 38 کیلیبر کے ریوالور مستعمل ہیں۔اس کا وزن تقریباََ ایک کِلو ہوتا ہے اور یہ ایک سیکنڈ میں چھ راؤنڈ چلا سکتا ہے۔اس کی مار 20 سے 30 گز کے درمیان ہے۔
 
اسٹین گن
اس کا وزن سات یا آٹھ پاؤنڈ ہوتا ہے۔اس سے ایک ایک راؤنڈ بھی فائر کیا جا سکتا ہے اور بیک وقت متعدد گولیاں بھی چلائی جا سکتی ہیں۔اس کی موثر مار 100 گز ہے اور اس کے میگزین میں 30 راؤنڈ ہوتے ہیں۔رائفل،پستول اور سٹین گن انفرادی ہتھیار ہیں۔
 
ایل ایم جی (لائٹ مشین گن)
لائٹ مشین گن یعنی ہلکی مشین گن کا وزن 22 پاؤنڈ تا 35 پاؤنڈ ہوتا ہے یہ 600 سے ایک ہزار گز تک مار کر سکتی ہے۔یہ سیکشن کا ہتھیار ہے۔
 
2
انچ کا مارٹر
3 انچ کے مارٹر کے برعکس جو بٹالین کا ہتھیار ہے،2 انچ کا مارٹر بھی سیکشن کا ہتھیار ہے تین پاؤنڈ وزنی بم 100 گز دور تک پھینک سکتا ہے۔
 
ایم ایم جی (درمیانی مشین گن)
یہ زیادہ مہلک ہتھیار ہے اور عام طور پر رائفل کمپنی کو 2 کے حساب سے الاٹ کیا جاتا ہے۔ درمیانی مشین گن 2 ہزار گز یعنی ایک میل سے زیادہ فاصلے پر 120 راؤنڈ فی منٹ کے حساب سے فائر کرتی ہے۔اس کا کام مورچوں کے درمیانی علاقے کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ ان دستوں کا بچاؤ کرتی ہے جو دشمن کے گھیرے میں ہوں یہ دشمن کو روکنے اور جوابی حملے میں مدد بھی کرتی ہے۔
 
بزوکا رائفل
یہ ٹینک شکن رائفل ہے۔ٹینک توڑنے کے لے استعمال کی جاتی ہے۔اس کے فائر سے ٹینک کے پرخچے اڑ جاتے ہیں۔ اسے ایک سپاہی دوسرے سپاہی کے کندھے پر رکھ کر یا فوجی گاڑی میں سٹینڈ پر فٹ کر کے فائر کرتا ہے۔بزوکا رائفل کا گولہ خاصا وزنی ہوتا ہے اور یہ دوسری گنوں کی طرح پیچھے دھکا نہیں دیتا۔
 
گرنیڈ یا دستی بم
گرنیڈ یعنی دستی بم مورچوں کے اندر سے 100 گز کے فاصلے پر پھینکا جاتا ہے۔یہ آم یا خربوزے کی شکل کا چھوٹا سا بم ہوتا ہے۔
 
ٹامی گن یا برین گن
یہ خود کار قسم کی مشین گنیں ہوتی ہیں جو کولہے یا کندھے سے لگا کر فائر کی جاتی ہیں۔انہیں قریب کی جھاڑیوں یا دشمن کے اجتماع پر حملہ آور ہونے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔
 
مشین گن
یہ کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ان کی خود کار فائرنگ کی رفتار کم سے کم 30 راؤنڈ فی منٹ ہوتی ہے۔یہ بغیر رکے فائر کرتی رہتی ہیں۔اس کی گولیاں میگزین یا پٹے میں ایک کے بعد ایک خود بخود جاتی رہتی ہیں اور گولیوں کے خول الگ گرتے رہتے ہیں۔مشین گن کو زمین پر یا بائی پوڈ یا ٹرائی پوڈ یعنی تین ٹانگوں والے سٹینڈ پر رکھ کر فائر کیا جاتا ہے۔
 
میزائل
یہ راکٹ کی خوفناک ترین قسم ہے لیکن تکنیکی اعتبار سے راکٹ سے بہت مختلف ہے۔میزائل ٹینکوں،طیاروں اور بحری جہازوں کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
 
راکٹ
راکٹ طیاروں کے پروں کے نیچے لگے ہوتے ہیں اور بٹن دبانے پر فائر ہوتے ہیں۔
 
بکتر بند گاڑیاں
یہ بھی ٹینک کے اصول پر بنی ہوتی ہیں۔ان پر ایک گنبد سا ہوتا ہے جس میں 4 مشین گنیں لگی ہوتی ہیں جو چاروں طرف گھوم کر فائر کرتی ہیں۔بکتر بند گاڑی میں توپ نہیں ہوتی۔یہ ربڑ کے پہیوں پر چلتی ہے۔اس کو چاروں طرف سے لوہے کی مضبوط چادروں سے محفوظ کیا ہوتا ہے۔بکتر بند گاڑی کے اندر متعدد سپاہی ہوتے ہیں۔اس گاڑی کی دیواروں میں رائفلوں اور مشین گنوں کے فائر کرنے کے چوکور سوراخ ہوتے ہیں۔بند گاڑی کے اندر ہی سے فائر کیا جا سکتا ہے۔
 
بارودی سرنگیں
دشمن کی پیادہ فوج اور گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لئے زمین میں دبا دی جاتی ہے۔ٹینک شکن بارودی سرنگیں بھی زمین پر بچھا دی جاتی ہیں جو نظر نہیں آتیں۔خاص آلات ہی سے ان کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔
تیسری قسم کی سمندری بارودی سرنگیں ہوتی ہیں جو بڑے بڑے بحری جہازوں کو تباہ کرنے کے لئے سمندر میں ڈال دی جاتی ہیں۔یہ بہت بڑی ہوتی ہیں۔
جب یہ سرنگیں سمندر میں ڈالی جاتی ہیں تو ایک تار سطھ سمندر پر ابھرا رہتا ہے جس سے کوئی بھی چیز چھو جائے تو سرنگیں پھٹ جاتی ہیں۔ بکتر بند دستے ان دستوں کا بنیادی ہتھیار بکتر بند گاڑیاں ہوتی ہیں۔یہ دفاع اور حملہ دونوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ان دستوں کو ٹینک رجمنٹوں،ٹینک رجمنٹ گروپ،سراغ رسانی گروپ،آزاد بکتر بند،بند بریگیڈ اور بکتر بند ڈویژن کی سطح پر استعمال کیا جاتا ہے۔بکتر بند یعنی آرمڈ ڈویژن چند ترامیم کے سوا انفنٹری ڈویژن سے ملتے جلتے ہیں۔مثال کے طور پر بکتر بند ڈویژن کے انفنٹری عناصر موٹرائزڈ بٹالین بن جاتے ہیں۔تین فیلڈ کمپنیاں ایس پی یعنی سلف پراپلڈ کہلاتی ہیں اور ان کی توپیں بکتر بند گاڑیوں پر نصب ہوتی ہیں۔
 
ٹینکوں کی اقسام
پاک فوج عام طور پر چار ٹینک استعمال کرتی ہے اور ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
 
ایم 24
18 ٹن وزنی اس ٹینک کی چادر 62 ملی میٹر موٹی ہوتی ہے۔اس کا عملہ چار افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی رفتار 34 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ایم 24 پر 75 ملی میٹر کی ایک توپ نصب ہوتی ہے جو ٹینک کے خلاف ایک ہزار گز تک اور انسان کے خلاف 15000 گز تک مار کر سکتی ہے۔
 
شرمن
32 ٹن کے اس ٹینک کی چادر 75 ملی میٹر موٹی اور اس کی رفتار 24 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔اس کا عملہ پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔اس پر 67 مل میٹر کیلبر کی توپ نصب ہوتی ہے جو 1200 سے 1500 گز کے فاصلے پر دشمن کے ٹینک کو تباہ کر سکتی ہے۔
یہ ٹینک پھٹنے والے گولے 16000 گز دور تک پھینک سکتا ہے۔یہ ایک دور مار ٹینک ہے۔
 
ایم 47 پیٹن
یہ پچاس ٹن وزنی ٹینک ہوتا ہے یہ لوہے کی بڑی موٹی چادر سے بنا ہوتا ہے۔اس کی رفتار 25 میل فی گھنٹہ ہے اور اس کی چادر 102 ملی میٹر موٹی ہوتی ہے۔
 

ایم 48 پیٹن
اتنی ہی موٹی چادر کے بنے ہوئے اس پچاس ٹن وزنی ٹینک کی رفتار 48 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔
ایم 47 اور ایم 48 دونوں پر نوے ملی میٹر دہانے کی توپیں نصب ہوتی ہیں جو تین ہزار گز تک ٹینک کو اور 18000 گز تک دشمن کے سپاہیوں کو تباہ کر سکتی ہے۔
بکتر بند دستوں میں ایک رجمنٹ پیادہ ڈویژن کے بٹالین کے برابر ہوتی ہے۔ٹینک رجمنٹ سکواڈرن اور دستوں میں منقسم ہوتی ہے۔ اس میں دوسرے دستوں کے علاوہ تین لڑاکا سکواڈرن شامل ہوتے ہیں۔ہر سکواڈرن چار دستوں اور چار ٹینکوں پر مشتمل ہوتا ہے۔دستے کی قیادت جونیئر کمیشنڈ آفیسر ،سکواڈرن کی میجر اور رجمنٹ کی لیفٹیننٹ کرتا ہے۔


بشکریہ : علی عمران صاحب

No comments:

Post a Comment