Sunday, 17 February 2013

میں بھی تھا میڈیا ورکشاپ میں

میں بھی تھا میڈیا ورکشاپ میں                                                                                                                                                
تبرک لے لیں ٹافیاں مل رہی ہیں۔ وقفہ نماز کیلئے ہال سے نکلتے ہوئے ایک ساتھی کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی میں پیچھے مڑا تو شمس الدین امجد نے تین عدد ٹافیاں میری ہتھیلی پر رکھ دیں جو زبیر منصوری صاحب اپنے پروگرام میں بہتر کارکردگی دکھانے والوں کو بطور انعام دینے کیلئے ساتھ لائے تھے۔ سنا ہے یہ ان کی پرانی عادت ہے سامعین کو متوجہ کرنے کیلئے۔
سوشل میڈیا ورکشاپ کی باز گشت تو گزشتہ دسمبر سے سنائی دے رہی تھی جو فروری میں منعقد ہوئی ۔ریاض احمد صدیقی کے رابطے نے ورکشاپ میں شرکت پر آمادہ و تیار کرلیا اور ضلع غربی کی اکلوتی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا۔
کشف جی، سرفراز شیخ کے ساتھ جب کینٹ اسٹیشن پر پہنچا تو بزنس ٹرین کے ذریعے لاہو جانے والے تقریباً تمام رفقاء موجود تھے یوسف ابوالخیر اور نعمان رحمت دین نے دمکتے چمکتے چہروں کے ساتھ خوش آمدید کہا ور شاہد شیخ نے میرا بیگ اپنے کندھے پر لے کر آزاد کردیا۔ بزنس ٹرین پر سوار ہوگئے جس کے لئے الگ پلیٹ فارم، ویٹنگ لاونج دیکھ کر حیرت ہوئی۔ کراچی سوشل میڈیا کی ٹیم حسن حماد کی قیادت میں عازم لاہور ہوئی۔ لاہور بروقت پہنچا کربزنس ٹرین نے حیران کردیا۔ جب منصورہ پہنچے تو مہمان خانہ ( دارالاخواۃ) کی سیڑھیوں پر سالار کارواں ریاض احمد صدیقی نے خوش آمدید کہا اور کراچی کے رفقاء کیلئے مختص کمروں کی نشاندہی کی ۔ ہوا کے دوش پر سفر کرنے والے اسامہ شفیق، شاہد عباسی(ایمز)، سعد شاہ(راہ ٹی وی)، سلمان شیخ(راہ ٹی وی)، سلمان علی( راہ ٹی وی) ، سید عامر اشرف( فرائیڈے اسپیشل) سے بھی وہیں ملاقات ہوگئی۔ خواتیں کا ایک وفد بھی ورکشاپ میں شرکت کیلئے پہنچ چکا تھا۔ ناشتے کے فوراً بعد پروگرام ہال مین پہنچے تو سید وقاص انجم جعفری کا خطاب جاری تھا۔ دو دن کی ورکشاپ اختتا م کو پہنچی اور شرکت ورکشاپ کا سرٹیفیکیٹ محترم سید منور حسن امیر جماعت اسلامی کے دستخط سے جاری ہوا۔
کراچی کے شرکا نے ورکشاپ کے بعد کچھ نظارہ لاہور وگرد ونواح کا پروگرام بنایا۔ جس میں پہلا پڑاؤ بادشاہی مسجد،مینار پاکستا ن اور، قلعہ لاہور تھا۔میں چونکہ اس مقام پر کئی بار آچکا تھا س لئے نماز ظہر کا وقت ہونے کی وجہ سے سیدھا بادشاہی مسجد کی طرف چل پڑا۔ نماز ظہر میں تقریباً ایک سو نمازی موجود تھے حالانکہ سیر و تفریح کی غرض سے سینکڑوں افراد موجود تھے۔ نماز کے بعد مسجد کے ہال کی سیڑھیوں پر تھوڑی دیر کیلئے بیٹھ گیا ۔ ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک سپاہی ہاتھ میں لاٹھی لئے آدھمکا کہ مسجد فوراً خالی کردیں یہاں سے چلیں جائیں میری طرح اور بھی کئی افراد وہاں بیٹھے تھے ۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کی اب کیا ہوگا۔ یکے بعد دیگرے کئی پولیس اہلکار جمع ہونے لگے اور چندمنٹوں میں مسجد اور ارد گرد نواح کے سبزاہ زاروں کو خالی کراکر پولیس کے جوانوں نے سیکورٹی سنبھال لی۔ یہ بات زبان زد عام تھی کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف ایک غیر ملکی وفد کے ساتھ آرہے ہیں ۔ یہاں سے ہماری منزل واہگہ بارڈر کی تقریب میں شرکت تھی۔ واہگہ بارڈر پر روزانہ شام کے وقت پرچم اتار تے ہوئے پریڈ کی باقاعدہ عوامی تقریب ہوتی ہے پورے پاکستان سے لوگ اس تقریب کو دیکھنے آتے ہیں۔ آذان عصر کے بعد پریڈ دیکھنے کیلئے پاکستان اور انڈیا کے شہریوں نے اپنے اپنے اسٹیڈیمز میں نعرے بازی کا مقابلہ شروع کردیا اور اپنی موجودگی کا اظہار کرنے لگے۔ انڈیا کے حصے میں جمناسٹک شو کرنے والے داد وصول کررہے تھے تو پاکستان کے حصے میں پاکستانی پرچم تھامے عمران پاکستانی اور اس کا ساتھی نعرے لگو رہے تھے ان سب میں نعرہ تکبیر سب سے بلند اور نماں تھا۔ اسٹیڈیم کی پیشانی پر پاکستان کا مطلب کی لاالہ اللہ سنہرے حروف میں سورج کی روشنی میں دمک رہا تھا اور پاکستان کی تخلیق کا مقصد یاد دلا رہا تھا۔ واہگہ بارڈر سے واپسی پر منصورہ پہنچ کر مرکزی میڈیا سیل کا وزٹ کیا دفتر میں برادر شمس الدین امجد سے ملاقات اور معلومات حاصل کیں ۔ الیکٹرانک ، پرنٹ و سوشل میڈیا سیل میں مناسب انتظامات و سہولیات موجود ہیں مگر صرف آٹھ ٹی وی چینل کی ریکارڈنگ بہت محدود لگی اس کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ بدلتے حالات نت نئی ایجادات کے دور میں اس شعبے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ وہیں پر دیر بالا سے آئے ہوئے دو ساتھیوں ظفر علی اور ارشاد اللہ سے بھی ملاقات ہوئی جن سے پہلے صرف سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ تھا آج ملاقات بھی ہوگئی۔ شمس الدین بھائی نے میری معذرت کے باوجود چائے پلا کر ہی اجازت دی یہ ان کی محبت اور ساتھیوں کے ساتھ اپنائیت تھی۔ جو یاد رہے گی۔

3 comments:

  1. ماشاللہ اختصار کے ساتھ دریا کو کوزے میں بند کرنا اسے ہی کہا جاتا ہے یعنی دو دنوں کی کہانی 1 صفحۓ پر سمو دی ماشاللہ تحریک اسلامی کی میڈیا تیؐ روزبروز مضبوط اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہوتی جا رہی ہے

    ReplyDelete
  2. ماشا ءاللہ دلدار صاحب بہت اچھے

    ReplyDelete
  3. ماشااللہ دلدار بھائی بہت زبردست لکھا ہے ۔۔ لاہور کی یاد تازہ ہو گئ پڑھ کر۔۔۔۔

    ReplyDelete